عزمِ نسواں
تو روشنی کا اک استعارہ ہے تیرے عزم سے روشن یہ جگ سارا ہے تو منزلوں کی امین، تو ہی راستہ ہر خواب تیری ہمت سے سنوارا ہے نہ سمجھ خود کو کمزور کبھی تو کہ تو نے ہی وقت کا دھارا موڑا ہے تیری پرواز سے ہے آسمان بھی حیران تو نے زنجیروں کو ہنس کے توڑا ہے آج کا دن تیری عظمت کا نشان ہے تو بااختیار ہے، تو ہی تو جہان ہے
Dit gedicht is geschreven door AI. Kopieer het, deel het, gebruik het in kaarten of toespraken — het is volledig gratis en van jou om te gebruiken.