عورت: کائنات کا رنگ
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں وہ روشنی ہے جو ظلمت میں راہ دکھاتی ہے وہ پھول ہے جو خزاؤں میں مسکراتی ہے ہر ایک روپ میں، ہر ایک رشتہ میں انمول وفا کی شمع ہے، الفت کا میٹھا سا ہے بول اٹھو کہ آج جہاں تم کو سلام کرتا ہے تمہارے عزم کو، ہمت کو عام کرتا ہے یہ آسمان، یہ زمین، سب تمہارے دم سے ہیں خوشی کے دیپ تمہارے ہی دم قدم سے ہیں تو اپنے آپ کو پہچان، تو ہے شمس و قمر تری نظر میں ہے دنیا کا ہر حسیں منظر
This poem was written by AI. Copy it, share it, use it in cards or speeches — it's completely free and yours to use.