عورت: روشنی کا مینار
تیرے وجود سے ہے کائنات میں یہ رنگ تو ہی ہے امن، تو ہی ہے جیت کی ترنگ ہر مشکل میں تو نے جلائے ہیں امید کے چراغ تیرے ہی دم سے مہکتے ہیں دنیا کے سب باغ نرمی تیری فطرت ہے، مگر عزم تیرا پہاڑ تو نے عبور کی ہے زمانے کی ہر ایک باڑ سلام تجھ کو اے پیکرِ وفا اور یقین تجھ سے ہی روشن ہے یہ آسماں اور زمین
This poem was written by AI. Copy it, share it, use it in cards or speeches — it's completely free and yours to use.