عظمتِ نسواں
اے صنفِ نازک، تیری عظمت کو سلام تو ہے کائنات کے ہر رنگ کا انعام تیرے ہی دم سے روشن ہے یہ جہان تیری ممتا، تیری ہمت کی کیا بات تو بیٹی، تو بہن، تو جیون ساتھی تیرے وجود سے ہے زندگی کی باقی ہر مشکل میں تو نے حوصلہ دکھایا علم و ہنر سے اپنا لوہا منوایا آسمان کی وسعتوں کو چھو لیا تو نے ہر میدان میں اپنا نام کیا تو نے خواتین کے اس دن پر ہے یہ دعا سدا مسکراتی رہے، خوش رہے سدا
Ten wiersz został napisany przez AI. Skopiuj go, udostępnij, użyj na kartkach lub w przemówieniach — jest całkowicie darmowy i do Twojej dyspozycji.