دوستی کا جشن
خوشیوں کے دیپ جلتے رہیں تیری راہ میں ہر خواب تیرا پورا ہو، ہو بس نگاہ میں یہ سالگرہ لائے بہاروں کا قافلہ غم سے کبھی نہ ہو تیرا کوئی معاملہ دوستی کا یہ رشتہ رہے سدا سلامت محبتوں کی بارش ہو، نہ آئے قیامت چمکتا رہے تو ستارہ بن کر فلک پر دعائیں ہیں میری تیرے لیے، ہر اک پہر
Ten wiersz został napisany przez AI. Skopiuj go, udostępnij, użyj na kartkach lub w przemówieniach — jest całkowicie darmowy i do Twojej dyspozycji.