عورت کی عظمت

عورت کی عظمت

اے صنفِ نازک، تیری عظمت کو سلام تیرے دم سے ہے روشن یہ سارا نظام تو ماں ہے، بہن ہے، بیٹی بھی ہے ہر روپ میں تو نے محبت بانٹی ہے تیری ہمت کی کوئی حد نہیں ہے تیرے جذبوں کی کوئی سرحد نہیں ہے تو پھول بھی ہے اور شمشیر بھی تو خواب بھی ہے اور تعبیر بھی آج کا دن ہے تیرے نام کا تیری جدوجہد اور تیرے کام کا یونہی مسکراتی رہو، آگے بڑھتی رہو کامیابی کی منزلیں چڑھتی رہو

Ten wiersz został napisany przez AI. Skopiuj go, udostępnij, użyj na kartkach lub w przemówieniach — jest całkowicie darmowy i do Twojej dyspozycji.

Darmowe CC0 Użytek komercyjny
Tekst skopiowany
Błąd usuwania
Błąd przywracania
Wideo opublikowane
Wideo nieopublikowane
Skarga wysłana
Gotowe
Błąd
Autor otrzymał:+5+10