دوستی کا جشن
دوستی کا یہ رشتہ بڑا انمول ہے خوشیوں سے بھرا تیرا ہر ایک بول ہے سالگرہ کے اس دن دعا ہے میری ہر غم سے دور رہے زندگی تیری چمکتے ستاروں سی تیری تقدیر ہو خوابوں کی ہر ایک تعبیر ہو مسکراہٹ تیرے لبوں پہ سجے سدا یہی ہے میرے دل کی پیاری صدا کامیابی تیرے قدم چومتی رہے خوشیاں تیرے آنگن میں جھومتی رہے مبارک ہو تجھے یہ دن میرے یار رہے سلامت سدا ہمارا یہ پیار
Ten wiersz został napisany przez AI. Skopiuj go, udostępnij, użyj na kartkach lub w przemówieniach — jest całkowicie darmowy i do Twojej dyspozycji.