محبت کا جشن
محبت کے گلابوں کی مہک تم سے ہے جاناں مری دنیا، مری چاہت، فلک تم سے ہے جاناں یہ دن تو بس بہانہ ہے محبت کو جتانے کا مگر دھڑکن کی ہر اک لے، دھمک تم سے ہے جاناں تمہارے ہاتھ میں جب ہاتھ ہو تو خوف کیسا ہو سفر آساں ہے سب، راہوں کی چمک تم سے ہے جاناں چلو عہدِ وفا باندھیں، کبھی ہم دور نہ ہوں گے کہ میری زندگی کی ہر جھلک تم سے ہے جاناں
Ten wiersz został napisany przez AI. Skopiuj go, udostępnij, użyj na kartkach lub w przemówieniach — jest całkowicie darmowy i do Twojej dyspozycji.