گرمیوں کی میٹھی دھوپ
گرمیوں کی یہ میٹھی سی دھوپ آئی ہے ساتھ اپنے محبت کی خوشبو لائی ہے پھول کھلے ہیں، رنگ بکھرے ہیں گلشن میں تمہاری یاد سے ہی تو رونق سمائی ہے شام کی ٹھنڈی ہوا جب بھی چلتی ہے دل میں اک نئی امنگ سی مچلتی ہے آؤ مل کر ان لمحوں کو ہم سجا لیں پیار کی یہ رت اب رنگ بدلتی ہے
Ten wiersz został napisany przez AI. Skopiuj go, udostępnij, użyj na kartkach lub w przemówieniach — jest całkowicie darmowy i do Twojej dyspozycji.