محبت کا جشن
محبت کے رنگوں میں گھل گیا ہے جہاں تمہارے بنا کچھ بھی نہیں ہے یہاں یہ سرخ گلاب اور یہ دل کی صدا تم ہی ہو میری زندگی کی ادا ہر دھڑکن میں بستا ہے نام تمہارا تم ہی تو ہو صبح و شام کا سہارا ویلنٹائن کا دن ہے، یہ وعدہ رہا رہیں گے ہمیشہ ہم سنگ سدا ستاروں سی آنکھیں، یہ چہرہ حسیں تمہارے سوا دل کو بھاتا نہیں محبت کی راہوں میں بکھرے ہیں پھول میری یہ چاہت کر لو قبول
Ten wiersz został napisany przez AI. Skopiuj go, udostępnij, użyj na kartkach lub w przemówieniach — jest całkowicie darmowy i do Twojej dyspozycji.