خواتین کے نام
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگانی کا سوزِ دروں تم ہی ہو متاعِ زندگی، تم ہی ہو امید کی کرن تمہارے دم سے ہے روشن یہ سارا گلستاں کبھی دھوپ سی سختی، کبھی موم سی نرمی ہر کردار میں تم نے بخشی ہے نئی گرمی آج کا دن ہے تمہاری عظمت کا نشان سلام ہے تم کو، اے دنیا کی پاسبان
Ten wiersz został napisany przez AI. Skopiuj go, udostępnij, użyj na kartkach lub w przemówieniach — jest całkowicie darmowy i do Twojej dyspozycji.