عزمِ نسواں

عزمِ نسواں

تو روشنی کا اک استعارہ ہے تیرے عزم سے روشن یہ جگ سارا ہے تو منزلوں کی امین، تو ہی راستہ ہر خواب تیری ہمت سے سنوارا ہے نہ سمجھ خود کو کمزور کبھی تو کہ تو نے ہی وقت کا دھارا موڑا ہے تیری پرواز سے ہے آسمان بھی حیران تو نے زنجیروں کو ہنس کے توڑا ہے آج کا دن تیری عظمت کا نشان ہے تو بااختیار ہے، تو ہی تو جہان ہے

この詩はAIによって書かれました。コピー、共有、カードやスピーチでの利用など、完全に無料で自由にお使いいただけます。

無料 CC0 商用利用可
テキストをコピーしました
削除エラー
復元エラー
動画が公開されました
動画が非公開になりました
苦情が送信されました
完了
エラー
著者が受け取りました:+5+10