آمدِ بہار

آمدِ بہار

آئی بہار، لائی ہے رنگوں کا کارواں مہکی ہے آج پھر سے زمیں اور آسماں غنچے کھلے، گلوں نے بھی پہنی ہے اوڑھنی ہر سمت بکھری بکھری سی ہے اب یہ روشنی بلبل کی چہچہاہٹیں باغوں میں گونجتیں خوشبو ہوائیں اپنے پروں پر ہیں لادتی بادل بھی جھومتے ہیں، برستی ہے پھوار موسم نے گنگنائی ہے اک دھن سدا بہار سبزے نے اوڑھ لی ہے نئی سبز چادریں روشن ہوئی ہیں پھر سے امیدوں کی مشعلیں دکھ درد سب خزاں کے ہوا میں اڑ گئے جیون کے خشک پیڑ بھی خوشیوں سے بھر گئے

Questa poesia è stata scritta dall'IA. Copiala, condividila, usala in biglietti o discorsi — è completamente gratuita e tua da usare.

Gratis CC0 Uso commerciale
Testo copiato
Errore di eliminazione
Errore di ripristino
Video pubblicato
Video non pubblicato
Reclamo inviato
Fatto
Errore
Autore ha ricevuto:+5+10