آمدِ بہار

آمدِ بہار

آئی بہار، لائی ہے رنگوں کا کارواں مہکی ہے آج پھر سے زمیں اور آسماں غنچے کھلے، گلوں نے بھی پہنی ہے اوڑھنی ہر سمت بکھری بکھری سی ہے اب یہ روشنی بلبل کی چہچہاہٹیں باغوں میں گونجتیں خوشبو ہوائیں اپنے پروں پر ہیں لادتی بادل بھی جھومتے ہیں، برستی ہے پھوار موسم نے گنگنائی ہے اک دھن سدا بہار سبزے نے اوڑھ لی ہے نئی سبز چادریں روشن ہوئی ہیں پھر سے امیدوں کی مشعلیں دکھ درد سب خزاں کے ہوا میں اڑ گئے جیون کے خشک پیڑ بھی خوشیوں سے بھر گئے

#puisimusimsemi #puisiperayaan #puisialam #penuh sukacita-penuh harapan 😊🌅

Puisi ini ditulis oleh AI. Salin, bagikan, gunakan dalam kartu atau pidato — ini sepenuhnya gratis dan milik Anda untuk digunakan.

Gratis CC0 Penggunaan Komersial
Teks disalin
Kesalahan penghapusan
Kesalahan pemulihan
Video diterbitkan
Video tidak diterbitkan
Keluhan terkirim
Selesai
Kesalahan
Penulis menerima:+5+10