عظمتِ نسواں
تو ہے شعاعِ نور، اندھیروں میں چراغ تیرے دم سے ہی مہکا ہے یہ سارا باغ کبھی بیٹی، کبھی بہن، کبھی ماں کا روپ سردی کی دھوپ ہے تو، کبھی ٹھنڈی چھاؤں تیرے عزم کے آگے جھکتے ہیں یہ پہاڑ تو ہی تو ہے اس دنیا کی مضبوط بنیاد آج کا دن ہے تیرے نام، تیری عظمت کو سلام تجھ سے ہی ہے رواں دواں یہ سارا نظام
שיר זה נכתב על ידי AI. העתיקו אותו, שתפו אותו, השתמשו בו בכרטיסים או בנאומים — הוא לגמרי בחינם ושלכם לשימוש.