دوستی کا جشن

دوستی کا جشن

خوشیوں کے دیپ جلتے رہیں تیری راہ میں ہر خواب تیرا پورا ہو، ہو بس نگاہ میں یہ سالگرہ لائے بہاروں کا قافلہ غم سے کبھی نہ ہو تیرا کوئی معاملہ دوستی کا یہ رشتہ رہے سدا سلامت محبتوں کی بارش ہو، نہ آئے قیامت چمکتا رہے تو ستارہ بن کر فلک پر دعائیں ہیں میری تیرے لیے، ہر اک پہر

این شعر توسط هوش مصنوعی سروده شده است. آن را کپی کنید، به اشتراک بگذارید، در کارت‌ها یا سخنرانی‌ها استفاده کنید — کاملاً رایگان و متعلق به شماست.

رایگان CC0 استفاده تجاری
متن کپی شد
خطای حذف
خطای بازیابی
ویدئو منتشر شد
ویدئو منتشر نشد
شکایت ارسال شد
انجام شد
خطا
نویسنده دریافت کرد:+5+10