عظمتِ نسواں

عظمتِ نسواں

تو ہے شعاعِ نور، اندھیروں میں چراغ تیرے دم سے ہی مہکا ہے یہ سارا باغ کبھی بیٹی، کبھی بہن، کبھی ماں کا روپ سردی کی دھوپ ہے تو، کبھی ٹھنڈی چھاؤں تیرے عزم کے آگے جھکتے ہیں یہ پہاڑ تو ہی تو ہے اس دنیا کی مضبوط بنیاد آج کا دن ہے تیرے نام، تیری عظمت کو سلام تجھ سے ہی ہے رواں دواں یہ سارا نظام

#روززن #الهام‌بخش-جشن و سرور ✨🎊

این شعر توسط هوش مصنوعی سروده شده است. آن را کپی کنید، به اشتراک بگذارید، در کارت‌ها یا سخنرانی‌ها استفاده کنید — کاملاً رایگان و متعلق به شماست.

رایگان CC0 استفاده تجاری
متن کپی شد
خطای حذف
خطای بازیابی
ویدئو منتشر شد
ویدئو منتشر نشد
شکایت ارسال شد
انجام شد
خطا
نویسنده دریافت کرد:+5+10