آمدِ بہار
بہار آئی ہے رنگوں کا سفر لے کر ہوا میں خوشبوؤں کا ایک اثر لے کر کھلے ہیں پھول ہر سو، چمن مہک اٹھا نئی امید کا ہر سو شجر لے کر اداسی دور بھاگی، خزاں رخصت ہوئی بہار آئی ہے خوشیوں کی خبر لے کر پرندے گیت گاتے ہیں، فضا مسرور ہے نیا سورج نکلا ہے نیا منظر لے کر
این شعر توسط هوش مصنوعی سروده شده است. آن را کپی کنید، به اشتراک بگذارید، در کارتها یا سخنرانیها استفاده کنید — کاملاً رایگان و متعلق به شماست.