گرمیوں کی میٹھی دھوپ

گرمیوں کی میٹھی دھوپ

گرمیوں کی یہ میٹھی سی دھوپ آئی ہے ساتھ اپنے محبت کی خوشبو لائی ہے پھول کھلے ہیں، رنگ بکھرے ہیں گلشن میں تمہاری یاد سے ہی تو رونق سمائی ہے شام کی ٹھنڈی ہوا جب بھی چلتی ہے دل میں اک نئی امنگ سی مچلتی ہے آؤ مل کر ان لمحوں کو ہم سجا لیں پیار کی یہ رت اب رنگ بدلتی ہے

این شعر توسط هوش مصنوعی سروده شده است. آن را کپی کنید، به اشتراک بگذارید، در کارت‌ها یا سخنرانی‌ها استفاده کنید — کاملاً رایگان و متعلق به شماست.

رایگان CC0 استفاده تجاری
متن کپی شد
خطای حذف
خطای بازیابی
ویدئو منتشر شد
ویدئو منتشر نشد
شکایت ارسال شد
انجام شد
خطا
نویسنده دریافت کرد:+5+10