دوست کی سالگرہ
خدا کرے کہ یہ دن بار بار آتا رہے تمہاری زندگی میں خوشیوں کا تہوار آتا رہے ہر ایک موڑ پہ منزل گلے لگائے تمہیں چراغِ راہِ تمنا سدا جگمگائے تمہیں ہنسی تمہارے لبوں سے کبھی نہ دور ہو تمہاری آنکھ کا ہر خواب آج نور ہو دعا ہے دوست، سلامت رہو سدا یوں ہی مہکتے پھول کی صورت کھلو سدا یوں ہی
تمت كتابة هذه القصيدة بواسطة الذكاء الاصطناعي. انسخها، شاركها، استخدمها في البطاقات أو الخطابات — إنها مجانية تمامًا ومتاحة لك.