شکوهِ زن

شکوهِ زن

ای بانوی سرزمین من، ای نور صبحگاهان در دست‌های گرم تو، مهر جهان پنهان همچون بهار، روح تو سبز و زنده است با تو امید در دل شب تابنده است تو ریشه‌ی حیاتی و همپای هر سفر از لطف توست که می‌شکفد غنچه‌ی هنر روز تو، روز رویش عشق و عدالت است نام تو بر صحیفه‌ی هستی، اصالت است

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10