شکوهِ زن
ای بانوی سرزمین من، ای نور صبحگاهان در دستهای گرم تو، مهر جهان پنهان همچون بهار، روح تو سبز و زنده است با تو امید در دل شب تابنده است تو ریشهی حیاتی و همپای هر سفر از لطف توست که میشکفد غنچهی هنر روز تو، روز رویش عشق و عدالت است نام تو بر صحیفهی هستی، اصالت است
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔