نور الوجود

نور الوجود

يا زهرة الدنيا وعطر الوجود أنتِ الضياء في الدجى والخلود في يومكِ الميمون نحني الجباه تقديراً لروحكِ، يا سر الحياة أنتِ الأم والأخت، ونبض الفؤاد بنيتِ المعالي، وصنتِ البلاد فكل عام وأنتِ المنى والأمل تزينين بالحب دروب العمل

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10