نسیم نوروزی

نسیم نوروزی

باز عالم شد جوان، آمد بهاران از کران بوی گل آید همی از دشت و باغ و بوستان سبزه و سنبل دمید و لاله شد رقصان به خاک مژده‌ی نوروز دارد بلبل شیرین‌زبان ای عزیز جان من، عیدت مبارک باد و خوش سال نو باشد برایت مایه‌ی امن و امان خنده‌ات مانند گل، پیوسته باشد برقرار شاد باشی و سلامت، تا ابد در این جهان روزگارت سبز باشد همچو دشت بی‌کران کام تو شیرین شود، چون شهد ناب ارغوان

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10