شکوه بیکران
ای زن، ای تجلی نور و امید در دست توست طلوع آفتاب سپید کوهی ز صبر و دریایی ز مهر میتابی چو خورشید بر این سپهر گامهایت استوار و دلت بیباک رویاندی گل سرخ از دل خاک روزت مبارک، ای نماد قدرت و جان ای شکوه بیکران در این جهان
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔