شکوه بی‌کران

شکوه بی‌کران

ای زن، ای تجلی نور و امید در دست توست طلوع آفتاب سپید کوهی ز صبر و دریایی ز مهر می‌تابی چو خورشید بر این سپهر گام‌هایت استوار و دلت بی‌باک رویاندی گل سرخ از دل خاک روزت مبارک، ای نماد قدرت و جان ای شکوه بی‌کران در این جهان

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10