طلوع بهار و نوروز

طلوع بهار و نوروز

باز عالم شد جوان، بوی بهاران می‌رسد مژده‌ی عید سعید و فصل باران می‌رسد سبزه و گل در چمن، رقصان به سازِ بادِ صبح نغمه‌ی شادی زِ هر سویِ خیابان می‌رسد سفره‌ی هفت‌سین ما با عشق رنگین می‌شود خنده بر لب‌های یاران و عزیزان می‌رسد سال نو باشد مبارک، ای تمامِ جانِ من روزگارِ خوش برایِ دوستداران می‌رسد

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10