نبضُ الهوى

نبضُ الهوى

يا عيدَ حُبٍّ أنتَ فيهِ ربيعي والقلبُ يهمسُ بالهوى ويُطيعُ أهديتُكَ الوردَ الجميلَ بلونهِ لكنَّ حُبَّكَ في الفؤادِ بديعُ أنتَ الضياءُ إذا الظلامُ أحاطني والعمرُ قربكَ زاهرٌ وواسعُ فلتَبقَ لي نبضاً يُنيرُ مسالكي إنِّي بحبِّكَ مغرمٌ ومُطيعُ

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10