نغمه‌ی میلاد دوست

نغمه‌ی میلاد دوست

امروز جهان به یمن تو خندان است خورشید به عشق روی تو تابان است ای دوست، طلوع بودنت پر برکت هر لحظه‌ی عمر تو پر از امکان است مانند بهار، سبز و زیبا باشی همواره رفیق موج و دریا باشی در باغِ دلت غنچه‌ی شادی بشکفت امید که صد سال دگر، ما باشی تقدیر تو را به رنگ آبی بزنند بر چهره‌ی تو مُهرِ جوانی بزنند تبریک بگویمت ز جان و از دل تا سکه‌ی خوشبختیِ آنی بزنند

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10