رفيقة العمر
يا زهرة العمر التي في قلبها سكن الربيع وفاضت الألحانُ أنتِ الحبيبة والرفيقة والمنى وبقربكِ الأيامُ لي بستانُ في عيد حبكِ لا أقول قصائداً فجمال وجهكِ فوق ما يزدانُ أهديكِ عمري نبضةً مسموعةً أنتِ الحياةُ ونبضها الرنانُ
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔