نبع الحنان

نبع الحنان

يا نبع الحب الصافي في دنيانا يا زهرة تعطر كل أرجانا في عيدك يا أمي نهديكِ القلوب فأنتِ الضياء إذا اشتدت خطانا حنانك بحر لا يعرف الحدود وعطفك غيث يروي ظمانا سهرتِ الليالي لراحتنا دهراً فكنتِ الملاذ وكنتِ الأمانا كل عام وأنتِ الخير والسرور يا جنة الخلد تمشي معنا

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10