نجمُ التخرج

نجمُ التخرج

مباركٌ يا صديقةَ الروحِ هذا النجاح تألقتِ كالنجمِ في عالي السماءِ ولاح سهرتِ الليالي وجدّت خطاكِ للكفاح فاليومَ تجنينَ زهرَ الجهدِ والأفراح تخرجتِ والقلبُ يرقصُ فخراً وابتهاج كأنكِ شمسٌ أضاءت دروباً وسراج لكِ المستقبلُ يفتحُ أبواباً وفجاج فامضي بعزمٍ، فحلمكِ اليومَ قد هاج يا زهرةَ العمرِ دمتِ للعلا عنوان فرحةُ التخرجِ أجملُ ما في الأزمان

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10