نبض الهوى

نبض الهوى

في عيد حبك تشرق الأيامُ ويذوب في همس الهوى إلهامُ يا نبض قلبي، يا ربيع مشاعري بك تزهرُ الدنيا وتصفو الأعوامُ عيناك بحرٌ غارقٌ في سحرهِ والروح فيك متيمةٌ وهْيامُ أهديك عمري والورود ورقتي فالحب أنتَ، وكلنا أحلامُ لا عيد لي إلا وأنت بجانبي فبقربك الآلامُ ليس تدومُ تبقى حبيبي سرَّ كل سعادةٍ ولغير حبك مهجتي لا ترومُ

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10