رقص بهار
نوروز رسید و باد صبا میرقصد بر دشت و دمن، سبزه به پا میرقصد هر غنچه به ناز، بوسهای میگیرد از شوق بهار، در هوا میرقصد بیدار شو ای دل که جهان نو گشته از عطر گل و شکوفه خوشبو گشته برخیز و بخوان ترانهی شادی را کین فصل امید، فصل جادو گشته
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔