بهانه‌ی عاشقی

بهانه‌ی عاشقی

در هوای عشق تو پر می‌کشم طعم شیرین محبت می‌چشم روز عشق است و دلم دیوانه‌ات شمع گشتم بر گرد پروانه‌ات هدیه من قلبی از جنس طلاست عاشقی با تو برایم کیمیاست باش تا دنیا به کام ما شود هر غمی در خنده‌ات رسوا شود ای تمام هستی و دنیای من روشنی‌بخش شب و فردای من تا ابد در قلب من مانی عزیز عشق پاکت را به پای من بریز

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10