عشق جاودان
در این جهان سرد، تو گرمای جانی بهترین هدیه، در این زندگانی روز عشق آمد تا باز بگویم که در هر نفس، عطر تو را میبویم تو معنای عشقی، تو نور امیدی چو خورشید تابان، بر من دمیدی دستم را بگیر تا رویا بسازیم به این عشق پاک و زیبا بنازیم
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔