عهد جاودان

عهد جاودان

سال‌ها گذشت و عشق ما جوان مانده است در قلب من نام تو جاودان مانده است هر روز کنار تو شروعی تازه است خوشبختی ما قصه‌ای بی اندازه است دستان تو پناه امنِ خستگی‌هایم لبخند تو پاسخِ تمامِ دلتنگی‌هایم این سالگرد بهانه‌ایست تا بگویم باز بی تو زندگی ندارد هیچ شوق و آواز

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10