عشق جاودان

عشق جاودان

در این دنیای پر غوغا، تویی آرامش جانم تویی تنها دلیل عشق، در این قلب پریشانم به یمن روز عشق امروز، دلم پر می‌کشد سویت جهانم روشن از رویت، فدای تار گیسویت نگاهت گرمی خورشید، صدایت نغمه‌ی باران کنار تو بهشت است این، چه در پاییز چه زمستان بمان با من که بی تو، زندگی معنا نمی‌گیرد گل عشق من و تو، تا ابد هرگز نمی‌میرد

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10