نبضُ الفؤاد
في يومِ الحُبِّ أُهديكَ فؤادي وأنغاماً تُسافرُ في الوِدادِ عيوناكَ الملاذُ وحُلمُ عُمري ونبضُكَ صارَ عيدي ومُرادي فأنتَ النورُ في ليلي وعَتمي وأنتَ الزهرُ في أرضِ البعادِ سأبقى في هواكَ أسيرَ عِشقٍ يُرددُ اسمكَ العذبَ يُنادي
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔