نغمه‌ی بهار

نغمه‌ی بهار

نسیم صبح بهاری وزید بر تن خاک جهان ز خواب زمستان دوباره گشت پاک شکوفه زد گلِ خورشید در دلِ آسمان حیات تازه دمیده به جانِ پیر و جوان صدای چهچه بلبل میان باغ و چمن نویدِ رویش عشق است در سرای وطن بیا که فصلِ شکفتن، زمانِ بیداری‌ست بهار، آینه‌ی لطف و مهر و هشیاری‌ست

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10