نغمه‌ی بهار

نغمه‌ی بهار

باز عالم شد بهار و دشت و صحرا سبز شد نغمه‌ی بلبل شنید و غنچه لب‌ها باز کرد عطر سنبل می‌رسد همراه بوی سیب و یاس آسمان آبی شد و خورشیدِ نو آغاز کرد سالِ نو آمد، مبارک باشد این ایامِ شاد خنده بر لب‌هایتان باشد چو گل‌های بهار روزگارت سبز و بختت روشن و دل بی‌قرار نورِ امید و محبت بر دل و جانت نثار

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو شائع نہیں کی جا سکتی: اعتدال پسندی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
مکمل
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10
مکمل صفحے پر چیٹ کھولیں