زهرة الوجود

زهرة الوجود

يا زهرةَ الدُّنيا وعِطرَ الوجودْ أنتِ الجمالُ وسرُّ الخلودْ في يومِ عيدكِ يزهرُ الأملْ وتشرقُ الشمسُ فوقَ القِممْ أنتِ القويّةُ رغمَ الصِّعابْ أنتِ المحبّةُ دونَ عِتابْ صانعةُ المجدِ عبرَ السنينْ ورمزُ العطاءِ وكَنزُ الحنينْ كُلُّ عامٍ وأنتِ ضياءُ الحياةْ ونبعُ الأمانِ وطوقُ النجاةْ

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10