نوروز و عهد دوستی

نوروز و عهد دوستی

باز عالم شد جوان و باد نوروزی وزید عطر سنبل در هوای کوچه و بازار پیچید رخت نو بر تن کن و از خانه بیرون زن رفیق فصل سرما رفت و موسم بر بهار آمد پدید سبزه و آینه و ماهی و آب و شمعدان سفره‌ی هفت‌سین ما با عشق و شادی شد چید آرزو دارم برایت سالی از گل تازه‌تر هر روزت نوروز باشد، بخت تو گردد سفید

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10