طلوعِ لبخندِ دوست

طلوعِ لبخندِ دوست

در باغِ دلت، گلی شکوفا شده است امروز جهان، غرقِ تماشا شده است خورشید به لبخندِ تو تابان گشته هر غصه ز قلبِ پاکِ تو، پنهان گشته ای دوست، تولدت مبارک باشد هر لحظه ی تو، پُر از تبارک باشد چون سرو بلند، سبز و پاینده بمان در دشتِ امید، شاد و تابنده بمان راهت همه نور و آسمانت آبی رویای خوشت، زلال و هم‌چون خوابی باشد که همیشه خنده بر لب داری از شادی و عشق، سهمِ هر شب داری

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10