آواز بهار
بهار آمد، زمین بیدار شد باز پرستو در هوا سر داد آواز شکوفه خنده زد بر شاخساران طراوت میچکد از ابر و باران نسیم صبحگاهی مینوازد دل کوه و چمن را میگدازد بنفشه سر زد از خواب زمستان جوان شد چهرهی باغ و گلستان بیا تا ما هم از غصه رها شیم شبیه غنچهها از نو شکوفا شیم
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔