نغمه‌ی سبز سیزده

نغمه‌ی سبز سیزده

سیزده به در آمد و گل‌ها خندید خورشید به روی سبزه و دشت تابید غم‌ها همه بر باد و دل‌ها شادان سرسبز شود دوباره این باغ و جهان سبزه گره زنیم با امید و نوید تا بخت سپید و روز خوش باز آید در دامن کوه و دشت با خنده و شور نحسی ز وجود ما شود دورِ دور

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10