بهارِ دوستی

بهارِ دوستی

بهار آمد و گل‌ها به باغ خندیدند نسیم عشق وزید و غمان بپاشیدند دوباره سفره‌ی هفت‌سین و عطر سنبل ناب خوشا دلی که در این لحظه گشته است بی‌تاب برای تو که رفیقی، دلی پر از امید آرزو می‌کنم امسال، روزهای سپید همیشه سبز بمان مثل سبزه‌های بهار که سال نو شود آغازِ بهترین تکرار

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10