فروغ جاویدان سده
آتش سده بار دیگر شعله زد بر آسمان تیرگیها را زدود از چهرهی پیر و جوان گرمی دلها فزون شد در دل سرمای سخت شادمانی هدیه آورد، مژدهی روز و زمان ای رفیقان، جشن نور و دوستی فرخنده باد یادگارِ باستان در یادمان پاینده باد گردِ آتش جمع گردید و سرودِ خوش خوانید تا ابد مهر و وفا در جانتان تابنده باد
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔