فروغ جاویدان سده

فروغ جاویدان سده

آتش سده بار دیگر شعله زد بر آسمان تیرگی‌ها را زدود از چهره‌ی پیر و جوان گرمی دل‌ها فزون شد در دل سرمای سخت شادمانی هدیه آورد، مژده‌ی روز و زمان ای رفیقان، جشن نور و دوستی فرخنده باد یادگارِ باستان در یادمان پاینده باد گردِ آتش جمع گردید و سرودِ خوش خوانید تا ابد مهر و وفا در جانتان تابنده باد

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10