نوید بهار

نوید بهار

بهار آمد و گل‌ها شکفتند باز جهان شد پر از نغمه و رمز و راز نسیم سحر بوی باران گرفت زمستان و سرما، پایان گرفت دل‌ات سبز باشد، لبت خنده‌رو به هر جا که هستی، گل و تازه شو مبارک بادت این سال نو، ای عزیز غم از دل برون کن، شادی بریز

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10