نوید بهار
بهار آمد و گلها شکفتند باز جهان شد پر از نغمه و رمز و راز نسیم سحر بوی باران گرفت زمستان و سرما، پایان گرفت دلات سبز باشد، لبت خندهرو به هر جا که هستی، گل و تازه شو مبارک بادت این سال نو، ای عزیز غم از دل برون کن، شادی بریز
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔