نغمهی سپندارمذگان
جهان ز عطر تو لبریز گشته در اسفند به یمن عشق تو بر لب نشسته صد لبخند زمین به نام تو امروز جشن میگیرد زمستان از تب عشقت، ز شرم میمیرد سپندارمذگان، روز مهر و پیمان است نگاه گرم تو خورشید این زمستان است تویی که ریشه دواندی به عمق جان و تنم من از شکوه وجودت، شکوفه میزنم
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔