أنت عيدي

أنت عيدي

يا عيدَ حُبٍّ أتى بالبُشرِ مُبتسِماً أنتَ الهوى في فؤادي، نبضُهُ الأبدي لو يجمعون وُرودَ الأرضِ قاطبةً ما عادلت نظرةً من طَرفِكَ السَّعِدِ كُلُّ الفصولِ ربيعٌ حينَ أنتَ معي يا زهرةَ العُمرِ، يا أُنشودةَ الغَدِ دعنا نُجدِّدُ عهداً صاغَهُ قَدَرٌ أن نبقى روحينِ في جِسدٍ وفي خَلَدِ

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10