أنت عيدي
يا عيدَ حُبٍّ أتى بالبُشرِ مُبتسِماً أنتَ الهوى في فؤادي، نبضُهُ الأبدي لو يجمعون وُرودَ الأرضِ قاطبةً ما عادلت نظرةً من طَرفِكَ السَّعِدِ كُلُّ الفصولِ ربيعٌ حينَ أنتَ معي يا زهرةَ العُمرِ، يا أُنشودةَ الغَدِ دعنا نُجدِّدُ عهداً صاغَهُ قَدَرٌ أن نبقى روحينِ في جِسدٍ وفي خَلَدِ
یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔