يا زهرة العمر

يا زهرة العمر

في عيد الحب أهديكِ الفؤادَ وما حوى يا زهرةً في العمرِ فاحَ عبيرُها أنتِ الضياءُ إذا الظلامُ بنا التوى والروحُ أنتِ، وأنتِ كلُّ سرورِها لا يكفي يومٌ كي أصوغَ مشاعري فالحبُّ فيكِ قصيدةٌ لا تنتهي يا نجمةً سطعتْ بليلِ خواطري دومي بقربي، فالجمالُ بكِ يزهي

یہ نظم AI نے لکھی ہے۔ اسے کاپی کریں، شیئر کریں، کارڈز یا تقاریر میں استعمال کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کے استعمال کے لیے ہے۔

مفت CC0 تجارتی استعمال
ٹیکسٹ کاپی ہو گیا
حذف کرنے میں خرابی
بحال کرنے میں خرابی
ویڈیو شائع ہو گئی
ویڈیو غیر شائع ہو گئی
شکایت بھیج دی گئی
ہو گیا
خرابی
مصنف کو موصول ہوا:+5+10